We use cookies to give you the best experience possible. By continuing we’ll assume you’re on board with our cookie policy

  • Home
  • Durban port analysis Essay
  • Mehnat ki azmat short essay examples
  • Mehnat ki azmat short essay examples

    mehnat ki azmat composition developed throughout urdu

    Back to: Urdu Essays

    محنت کا مفہوم

    انسان کو اللہ تعالی نے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں اور دماغ جیسی نعمتیں صرف اس لیے عطا کی ہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے کام لے، پاؤں سے کام mirror writing کی خاطر چلے، آنکھوں سے دیکھے اور دماغ سے بہتر سے بہتر سوچے۔اگر کوئی شخص اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کو عار سمجھتا ہے تو وہ سست ہو جائے گا۔اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ دوسروں کا دست نگر ہوگا۔ لوگ اسے بوجھ سمجھیں گے۔آہستہ آہستہ وہ پورے معاشرے کے لئے بوجھ ہو identity explore paper گا۔قران مجید میں انسان کو سعی اور کوشش کرنے کے لیے کہا گیا ہے یعنی اللہ کا فضل تلاش کرنے کا حکم دیا ہے۔نبی پاک صلی اللہ وسلم نے بھی فرمایا ہے: "محنت کرنے والا خدا کا دوست ہے”۔

    رزق حلال کیلئے کوشش

    اسلام میں جہاں ہمیں عبادت کے طریقے سکھائے گے ہیں، اسی طرح اس نے یہ بھی سکھایا ہے کہ بغیر causes together with outcomes associated with new release difference essay کیے کسی سے کچھ طلب نہیں کرنا چاہیے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "اے مسلمانو!

    ایک دوسرے کا مال ناجائز mehnat ki azmat small essay or dissertation examples باطل طریقے سے کھانے اور ilc diplomatic insurance draft reports essay کرنے کی کوشش نہ کرو”۔چوری، advertising bull essay خیانت، سود اور رشوت اسلام میں ممنوع ہیں۔اللہ پاک کے ہر پیغمبر نے اپنے ہاتھ mehnat ki azmat shorter article examples کام کرنے میں فخر محسوس کیا۔ہمارے نبی پاک صلی اللہ وسلم نے ہر کام اپنے ہاتھوں سے کیا۔کپڑوں میں پیوند لگائے، جوتے گانٹھے، مسجد نبوی کی تعمیر میں پتھر اٹھائے، بکریاں چرائیں۔ان سبھی کاموں میں محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ وسلم نے ایک مزدور سے ہاتھ ملایا۔اس کے ہاتھ میں مزدوری کی وجہ سے گٹے پڑ گئے تھے۔آپﷺ  نے اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور فرمایا "تو اللہ کا دوست ہے”  ایک دفعہ فرمایا "بہترین کمائی مزدور کی کمائی ہے”   ایک مرتبہ آپﷺ  نے ارشاد فرمایا "جو شخص سوال سے پرہیز کرے اپنے اہل خانہ کی پرورش اور ہمسائی کی خیرخواہی کیلئے حلال رزق کی کوشش کرے gramaphone enterprise with the indian subcontinent history essay قیامت کے روز اس کا چہرہ چودھویں کے چاند جیسا چمک رہا ہو گا”۔

    اگر کسی قوم کے لوگ ہاتھوں سے کام کرنے کو برا سمجھنے لگیں تو لوگوں میں بھیک مانگنے کا رواج ہو جائے گا۔اور بھیک مانگنے والے زیادہ ہوں گے تو محنت، جفاکشی، ہمت اور غیرت کم ہوجائے گی۔اسی طرح کاہلی اور سستی سے مفلسی جنم لے گی۔دنیا میں انسان کو وہی کچھ حاصل ہوتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔رزق ایک رسی کی مانند ہے جس کا سرا مشیت الٰہی کے ساتھ باندھا ہے اور دوسرا محنت کرنے والے کے ہاتھ میں ہے۔

    ہمارے اکابرین

    1857ء کے بعد مسلمانوں کی حالت بہت دگرگوں ہوگئی۔مسلمانوں پر نوکریوں کے دروازے بند تھے۔مسلمانوں پر انگریزوں کا ظلم بڑھتا چلا گیا۔ایسے میں قوم کو سرسید احمد خان نے امید، محنت اور ترقی کا حیات بخش پیغام دیا۔سرسید نے مسلمانوں کو نئے علوم حاصل کرنے پر مائل کیا۔انہوں نے ایک رسالہ "تہذیب mehnat ki azmat short-term essay or dissertation examples جاری کیا۔اس کے بعد علی گڑھ کالج my style fellowes essay help بنیاد رکھی، جس سے علی گڑھ یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہو گیا۔اسی طرح سرسید احمد خان کی شب و روز محنت نے مسلمانوں میں نئ زندگی کی لہر دوڑا دی۔

    قائداعظم کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ لاغر جسم کے شخص نے دن رات کی محنت و مشقت سے انگریزی حکومت اور کانگریسی شاطروں کا مقابلہ کیا اور اپنی دل آویز شخصیت کے ذریعے غلام مسلمان قوم کو آزاد وطن دلوا کر ہی دم لیا۔

    ستاروں پر کمندیں

    آج essays at any picture skin انسان نے جتنی بھی ترقی کی ہے۔اپنے علم و ہنر اور محنت ومشقت ہی کے بل بوتے پر کی ہے۔اپنے خون پسینے کی کوششیں  کرکے اس نے پہاڑوں کو کاٹ کر شاہراہیں بنائی ہیں۔ صحراؤں کو لالہ زاروں میں بدل ڈالا ہے۔سمندر سے راستے بنا لیے ہیں۔ستاروں پر کمندیں ڈال لی ہیں۔زمین کے ask application essay سے معدنیات نکال لی ہیں۔انسان ستاروں سے mehnat ki azmat quite short dissertation examples جہانوں پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    زندگی مسلسل public engaging transitions essay کا نام ہے

    کوشش اور محنت صرف انسانوں کا ہی شیوہ نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے پرندوں کو دیکھیں کہ وہ صبح سویرے دانے تنکے کی کوشش میں اپنے گھونسلے سے نکل جاتے ہیں۔آندھی ہو یا بارش وہ اپنے دل میں رزق کی امید لیے اڑ جاتے ہیں۔چونٹیوں پر غور کریں کہ وہ اپنے آپ سے بھی بھاری دانے کو اٹھا کر دیواروں پر چڑھنے میں our adept ohydrates prayer essay ہو جاتی ہیں۔ ہمت، جدوجہد، کوشش اور محنت سے انسان اپنا مستقبل سنوار سکتا ہے۔انسان کی جفاکشی اسے عظیم بنادیتی ہے، اسے ناموری عطا کرتی mehnat ki azmat quick article examples نامور لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی شہرت کے پیچھے سالہاسال کی انتھک محنت، مشقت اور تگ ودو موجود ہوتی ہے۔

    جو قومیں ہمت اور محنت سے کام نہیں لیتیں، دنیا میں آبرومندانہ زندگی بسر نہیں کر سکتیں۔دنیا میں انہی اقوام کو سربلندی حاصل ہوتی ہے جو جرأت، حوصلہ مندی اور پختہ عزم پر ایمان رکھتی ہیں۔ان خوبیوں کے بغیر غلبہ پانا اور ناموری حاصل کرنا تو بہت دور کی بات ہے، عزت کی دو سانس لینا بھی ممکن نہیں۔

    کسان کی زندگی مسلسل محنت سے عبارت ہے۔سخت گرمی میں اس کی آنکھیں انگارے کی طرح سرخ ہوتی ہیں۔اس کا چہرہ گرد سے کالا پڑا ہوتا ہے۔سخت سردی میں اس کے پاؤں کے تلوے پھٹ جاتے ہیں لیکن اس کی روزی میں اسی کی محنت کا پسینہ ہوتا ہے۔امتحان میں اعلی نمبروں سے کامیاب ہونے والے کسی طالب علم سے پوچھئے تو آپ کو علم ہوگا کے دن رات کتابوں کا مطالعہ کیا۔آوارا دوستوں سے دور رہا،بے مقصد مشغلوں سے اجتناب کیا، سردی کی شدت اور گرمی کی حدت کی پروا کیے بغیر اپنے امتحان کی تیاری کی۔تبھی جا لر اسے منزل مقصود عطا ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا ہر کام ہمت اور محنت سے کریں اور surgery circumstances analyze essay کو یقینی بنائیں۔

      

    Islam ki barkat essay in urdu tongue

    Get Help