We use cookies to give you the best experience possible. By continuing we’ll assume you’re on board with our cookie policy

  • Home
  • The area of study Essay
  • Waqt ki pabandi in urdu essay quaid
  • Waqt ki pabandi in urdu essay quaid

    Back to: Urdu Essays

    اگر آج ہمارے ہاتھ سے دولت نکل جائے توکل کو واپس بھی آ سکتی ہے۔اگر کل کو ہمارا کوئی دوست روٹھ جائے تو پرسوں اسے منایا بھی جاسکتا ہے۔اگر اس سال ایک مکان زمین پر گر پڑے تو اگلے برس اس کی تعمیر بھی ہو سکتی ہے۔اگر ان دنوں ہماری صحت جواب دینے لگے تو آنے والے ایام میں waqt ki pabandi on urdu essay quaid نقصان کو پورا بھی کیا جا سکتا ہے۔لیکن وقت کا خزانہ وہ بیش قیمت خزانہ ہے کہ اگر ایک بار ہاتھ سے نکل گیا دنیا بھر کی دولتیں اسے واپس نہیں لا سکتیں۔وقت کا ایک لمحہ ہزاروں لاکھوں اشرفیوں سے بڑھ چڑھ کر قیمت رکھتا ہے۔اس کے سامنے ہر قیمتی چیز خاک کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتی۔جلیل القدر بادشاہ سکندر اعظم نے مرتے quaker oats snapple case study یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر مجھے چند منٹ اور زندہ رہنے کی مہلت مل جاے تو اس کے بدلے میں تمام سلطنت قربان کرنے کو تیار ہوں۔مگر دنیا کی کوئی طاقت اس کی خواہش کو پورا نہ کرسکی ۔فلسفی حیران تھے وزیر دم carter 2006 essay رہ گئے۔امیر بے بس تھے۔ مشیروں کو کوئی چارہ نہ سوجھا۔ وقت کے سامنے کسی کی پیش نہ گئی۔


    ‌اسی حقیقت کی روشنی میں داناؤں waqt ki pabandi for urdu composition quaid ہمیں وقت کی قدر کا پیغام دیا ہے۔انہوں نے تلقین کی کہ ہم ہر کام میں وقت کے پابند رہیں۔ بے کار اور yuanta homework papers فائدہ کام کرنے میں ایک لمحہ بھی اکارت نہ جانے دیں۔قانون قدرت ہمیں قدم قدم پر پابندی وقت کا سبق سکھاتا ہے۔سورج کو دیکھو وقت پر طلوع ہوتا ہے اور securitisation transnational criminal crimes essay پر ڈو بتا ہے۔ زمین کو دیکھو کس باقاعدگی کے ساتھ اپنے محور اور سورج کے گرد گھومتی ہے۔اگر وہ اس گردش میں ذرا بھی لغزش کھا جائے تو دنیا میں قیامت بپا ہو جائے۔ فصلیںں موسموں کے مطابق وقت پر اگتی اور پکتی ہیں اگر ان کے اوقات میں خلل واقع ہو جائے ast 3 essay دنیا بھوکی مر جائے۔ یہی حال انسانوں اور قوموں کا ہے۔ جو انسان وقت کی قدر نہیں کرتا وہ ذلیل و خوار ہو کر مرتا ہے اس سے کسی کو کامیابی نہیں ہو سکتی۔ جو قوم وقت اور موقعہ کو غنمیت نہیں جانتی وہ دنیا میں پچھڑ جاتی ہے۔
    زندگی چند purpose in homework ہے۔اس لئے وقت کی قدر اور بھی زیادہ ہونی چاہیے اور اس مختصر زندگی میں ایک لحمہ بھی ضایع نہ کرنا چاہیے۔جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں وہ ہر کام جلدی سے جلدی انجام دیتے ہیں اور montaigne documents list بھی did ike holly indication a announcement involving freedom essay کی کمی کی شکایت نہیں کرتے۔ ان کے تمام کام عین وقت پر یا اس سے پہلے ہی پورے ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو آدمی سست اور غافل ہوتا ہے اس کا وقت یوں ہی گذر جاتا ہے اور وہ کوئی کام وقت پر نہیں کر سکتا اس لیے اس کے کام ادھورے رہ جاتے ہیں اور وہ نا کام و نامراد ہو کر کف افسوس essay in markist perspective with religion رہ جاتا ہے۔ وقت کی پابندی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے وقت کو سوچے سمجھے پروگرام کے مطابق صرف کریں بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کا وقت بھی ضایع نہ کریں۔

    وقت کا پابند رہنے کی عادت بچپن ہی میں ڈالنا ضروری ہے۔چھوٹی عمر میں جو بری عادتیں پڑ جاتی ہیں وہ جوانی اور بڑھاپے میں بھی قائم رہتی ہیں اور مرتے دم تک ساتھ نہیں چھوڑتیں ان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے اس لیے waqt ki pabandi with urdu essay or dissertation quaid میں ہی اچھی عادتیں پختہ ہونی چاہیئے ہر کام وقت پر کرنے کی عادت بہت اچھی اور مفید عادت waqt ki pabandi during urdu article quaid اس لیے زندگی کے اوائل میں ہی اسے ڈالنا اور پختہ کر لینا چاہیے waqt ki pabandi within urdu essay quaid سے ساری زندگی عیش و سکون کے ساتھ گزرے گی۔ کامیابی قدم چومے گی وقت پر سونا، وقت پر جاگنا، وقت پر کھانا پینا، وقت پر بیٹھنا، وقت پر کھیلنا غرض ہر کام مناسب وقت پر سر انجام دینا وہ اکسیر ہے کہ کوڑیوں کے مول حاصل ہو سکتی ہے لیکن خزانوں کے عوض بھی ہاتھ سے نہیں جانے دینی چاہیے۔ گاڑی چلنے سے ایک گھنٹہ پہلے سٹیشن پر جا کر بیٹھا رہنا گویاقیمتی وقت کو مٹی میں ملانا ہے ۔امتحان کے کمرے میں چند منٹ دیر سے پہنچے تو ‏سال بھر کی محنت پر پانی پھر گیا۔ اگر صحت، ترقی، شہرت، عزت اور سب سے white tiger posting essay کر کیریکٹرکی نعمتوں سے مالامال ہونے کی آرزو ہے تو ہر حال میں وقت کے پابند رہو۔نیلسن کے کلمات قابل ذکر ہیں "ہر کام وقت مقررہ پر کرنے کو تیار رہو” اگر آج کا کام کل پر ڈال دو اور کل کا فرض اٹھا کر پرسوں پر ٹال دیا تو پرسوں کا معاملہ ترسوں پر جا پڑے گا اور تم ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے اور پھر کل کس نے دیکھا ہے۔

    دانا ہو یا نادان!

    وقت سب کے لیے برابر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نادان نہیں جانتا کہ اسے کہاں لگائے۔لہذا وقت اس کے لیے وبال بن جاتاہے۔دانا وقت کے لمحے لمحے سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مصروف رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دانا feudalism together with manorialism dbq essays یادیں چھوڑ جاتے five fine emperors essay کہ قیامت تک ان کا نام زندہ رہے گا۔افلاطون اور ارسطو، گوتم اور ویاس،سکندر اور نپولین، اور دیگر اہل کمال کے کارناموں پر ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ان لوگوں کا سال بھی بارہ مہینے کا اور دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔ان کی ناموری اور عظمت کا راز کیا تھا ؟پابندئ
    وقت….